میں نماز اور درود کیوں نہیں پڑھتا؟

ایک دفعہ کا ذکر ہے میں پہلی جماعت میں تھا۔ میں پابندی سے نماز پڑھتا تھا۔ اس وقت دمام (سعودی عرب) میں سڑکیں ٹوٹی ہوتی تھیں۔ ملک پیٹرول کی دولت سے ابھی مالا مال نہیں ہوا تھا۔

نتیجتا جب بارشیں ہوتی تھیں تو ہر طرف کیچڑ بن جاتا تھا۔ مسجد کے لیے ہر بار نیا راستہ دریافت کرنا پڑتا تھا۔

ایسے ہی ایک روز میں عصر کی نماز پڑھنے گیا لیکن واپسی میں ایک ننھی سی دلدل میں میرا پاٶں دھنس گیا۔ بڑی مشکل سے میں نے اس دلدل سے اپنا پاٶں چھڑایا۔

لیکن یہ کیا؟ میرا کیچڑ میں لتھڑا پاٶں تو بہ سلامت نکل آیا تھا لیکن چپل غاٸب تھا۔ میرے ایک بڑے بھاٸی ساجد نے ایک بار کہا تھا ایک پاٶں میں چپل پہننا گناہ ہوتا ہے۔

میں نے فورا دیوانہ وار دونوں ہاتھوں سے اس ننھی سی دلدل میں اپنی چپل تلاش کرنی شروع کردی مگر بے سود۔ میں نےاس دلدل کو چھان مارا لیکن وہ چپل مل کر نہ دی۔

مجھے بڑی حیرت ہو رہی تھی کہ وہ چپل جادو کی طرح کہاں غاٸب ہو گٸی تھی۔

میں نے دوسری چپل بھی وہیں چھوڑ دی اور گناہ سے بچنے کے لیے ننگے پاٶں گھر آگیا۔ مجھے کوٸی کنکر تک نہ چبھا تھا۔

میں نے یہ عجیب روداد اس بڑے بھاٸی کو سناٸی اور آٸندہ کے لیے برسات میں مسجد سے پرہیز کر لیا۔ جلد ہی پیٹرول کی دولت نے کیچڑ اور دلدلوں کا مسٸلہ حل کر دیا اور میں پھر باقاعدگی سے مسجدوں میں نمازیں پڑھنے لگا۔

سنہ 1996 میں خدا نے مجھے بتایا کہ جو لڑکی اس نے میرے لیے پسند کی ہے وہ مراکش میں ہے۔ لیکن خدا نے تنبیہ کی کہ کوٸی نماز نہ پڑھنا ورنہ جس طرح سنہ 1993 میں ترکی میں ناکام ہوۓ تھے، سنہ 1995 میں اردن میں، پھر سعودی عرب میں، اس طرح اس سال بھی نامراد لوٹو گے!

میں اپنی ناکامیوں سے جھنجلا چکا تھا اور مجھ سے مزید صبر نہیں ہو رہا تھا۔ لہذا میں فورا مان گیا۔

لیکن جب میں نے پے در پے کامیابیوں کا مزا چکھا تو میں شکرانے کے نفل پڑھنے کے لیے تڑپ گیا اور خدا نے مجھے ظہر کی ایک نماز پڑھنے کی اجازت دے دی۔ اللہ میاں بہت نیک ہیں۔

لیکن اب میں کیوں نمازیں نہیں پڑھتا؟

اس کیوجہ یہ ہے کہ میں نے زندگی کے 3 سال، سنہ 1998 سے سنہ 2000 تک قرآن کا باریکی سے جاٸزہ لیا اور گھراٸی سے مطالعہ کیا اور میں نے زندگی میں پہلی قرآن کو سمجھنا شروع کیا۔

خدا کی مدد شامل شامل حال تھی۔ سب سے پہلے تو خدا نے مجھے ساری حدیثیں وغیرہ کو دماغ سے نکا دینے کا مشورہ دیا کیونکہ علماء حضرات نے قرآن میں پیٹ بھر کر تحریف کی ہے۔

اس طرح میں نے قرآن کو پہلی بار وضاحت سے دیکھا۔ میں نے کیا دیکھا؟

میں نے دیکھا کہ قرآن میں کہیں نہیں لکھا دن میں پانچ نمازیں پڑھو۔ ایک جگہ لکھا ہے ہم نے دن روزی روٹی کمانے کے لیے بنایا ہے اور رات آرام کرنے کے لیے بناٸی ہے۔

میں نے سیکھا قرآن میں کہیں نہیں لکھا نماز کے لیے اذان دو۔ جو کٸی طرح کی اذان لوگ دیتے ہیں ان کا قرآن شریف سے کوٸی لینا دینا نہیں۔ اسی طرح لوگ جو کٸی طرح کے انساز سے نمازیں ہڑھتے ہیں ان میں سے کوٸی بھی قرآن شریف پر مبنی نہیں۔

اذان کے برعکس قرآن کہتا ہے اپنی نماز کو اونچی آواز یا علی الاعلان مت ہڑھو۔ تو پھر لوگ یہ کیوں کہرے ہیں کہ نماز مسجد میں علی الاعلان پڑھو؟ کیا یہ دکھاوا اور ریا کاری نہیں؟

پھر قرآن کہتا ہے اس میں مکمل ہدایت ہے تو پھر ہم حدیثوں کا سہارا کیوں لیتے ہیں؟ دیکھیں مولوی نے کتنے اختلافات پیدا کردیے۔ ہر فرقہ دوسری کی نماز کو نہیں مانتا۔

پھر قرآن میں نمرود کا حضرت ابراہیم سے ان کے مذہب ہر بحث اور باز پرس کا ذکر ہے۔ جب حضرت ابراہیم نے خدا کو واحد آقا تسلیم کرتے ہوٸے نمرود کے خدا کو نہیں مانا تو نمرود نے انہیں دہکتی آگ میں پھینکنے کی سزا سنا دی لیکن خدا نے اہنے نیک بندے حضرت ابراہیم کو بچا لیا۔

حضرت ابراہیم تو کسی سے نماز روزے کا حساب نہیں لیتے تھے۔ کیوں؟ کیونکہ ان میں خدا کا خوف اور خدا کا پیار تھا۔

لیکن قرآن میں تو بارہا نماز قاٸم کرنے کی تلقین ہے۔ اس کا کیا مقصد ہے؟

دراصل قرآن اسٹینڈرڈ عربی میں نازل نہیں ہوا بلکہ ڈیڑھ ہزار سال ہرانی کلاسک عربی میں نازل ہوا۔ اور ہم اردو میں قرآن شریف کے لفظ “صلاة” کے دو علیحدہ ترجمے کرتے ہیں: (1) نماز اور (2) درود۔

قرآن میں لکھا ہے

هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا

یعنی وہی ہے اور اس کے فرشتے جو تم ہر صلاة پر پڑھتے ہیں تاکہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالیں۔

ایک اور جگہ لکھا ہے۔

اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا

یعنی خدا اور اس کے فرشتے نبی ہر صلاة پڑھتے ہیں۔ اے ایمان والو تم بھی ان ہر نماز ہڑھو اور انہیں سلام کرو۔

تو کیا ہم صلاة کے ذریعے حضرت محمد کو گمراہی سے روشنی کی طرف نکا لیں گے؟

نہیں۔ دراصل صلاة کا مطلب رابطہ کرنا ہے۔ یہ عربی زبان کے لفظ وصل سے بنا ہے۔ خداوند کہہ رہے ہیں جس طرح میں اور میرے فرشتے تم سے رابطہ کرتے ہیں تاکہ تمہیں ہدایت دلاٸیں اسی طرح تم بھی نبی سے رابطہ کرو تاکہ ہدایت پاٶ۔

لیکن کونسے نبی؟ حضرت محمد کا تو 1500 سال پہلے انتقال ہو گیا اور قرآن کہتا ہے جو ان کی موت کو تسلیم نہیں کرتا وہ مرتد، بت پرست ہے۔ ایک اور جگہ قرآن فرماتا ہے کہ خدا نے حضرت محمد کو گمراہ پایا تو انہیں ہدایت سے نوازا۔

ایک اور جگہ قرآن کہتا ہے کہ آپ نہیں جسے چاہے ہدایت دیتے ہیں بلکہ خدا جسے چاہتا ہے اسے ہدایت دیتا ہے۔ تو ہمیں بھی ایک ہی خدا کو اپنانا ہوگا ورنہ ہم خدا کی نگاہ میں مرتد یعنی بت پرست مانے جاٸیں گے اور بت پرستی ناپاکی ہوتی ہے۔

تو یہاں نبی سے مراد دراصل حضرت عیسی ہیں جنہیں قرآن خدا کا کلام اور خدا کی روح کہتا ہے۔ انہیں “مسیح” بھی کہتا ہے جو یہودی زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب “خدا کا چنا ہوا بادشاہ ہے”۔

میری آپ سے گذارش ہے کہ پہلے حضرت محمد سے دعا مانگیں اور دیکھیں وہ آپ کو جواب دیتے ہیں یا نہیں۔ پھر حضرت عیسی کو پکاریں اور دیکھیں کیا ملتا ہے۔

Advertisements
میں نماز اور درود کیوں نہیں پڑھتا؟

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s